“The intoxication of my helpless revelry has worn off,And even you say that I am at peace!”
میری اِس مجبور مستی کا نشہ اُتر گیا ہے، اور آپ بھی یہی کہتے ہیں کہ مجھے آرام ہے۔
یہ شعر اس دکھ بھری ستم ظریفی کو خوبصورتی سے بیان کرتا ہے جب کوئی شخص مجبوری میں خوشی کا دکھاوا کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اس کی 'مجبور مستی' یعنی بناوٹی یا زبردستی کی خوشی کا نشہ اب اتر گیا ہے۔ مگر سب سے دل دہلا دینے والی بات یہ ہے کہ اس کے اپنے بھی اس کی اس تھکی ہوئی اور کمزور حالت کو 'آرام' سمجھ رہے ہیں، جو گہری غلط فہمی اور تنہائی کو ظاہر کرتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
