મારી આ મજબૂર મસ્તીનો નશો ઊતરી ગયો,
આપ પણ એવું કહો છો કે મને આરામ છે!
“The intoxication of my helpless revelry has worn off,And even you say that I am at peace!”
— مریض
معنی
میری اِس مجبور مستی کا نشہ اُتر گیا ہے، اور آپ بھی یہی کہتے ہیں کہ مجھے آرام ہے۔
تشریح
یہ شعر اس دکھ بھری ستم ظریفی کو خوبصورتی سے بیان کرتا ہے جب کوئی شخص مجبوری میں خوشی کا دکھاوا کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اس کی 'مجبور مستی' یعنی بناوٹی یا زبردستی کی خوشی کا نشہ اب اتر گیا ہے۔ مگر سب سے دل دہلا دینے والی بات یہ ہے کہ اس کے اپنے بھی اس کی اس تھکی ہوئی اور کمزور حالت کو 'آرام' سمجھ رہے ہیں، جو گہری غلط فہمی اور تنہائی کو ظاہر کرتا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
