“What a God I've found, 'Mariz', what more can I say?He gives nothing himself, nor lets me ask from others.”
شاعر، مریؔض، خدا سے مایوسی کا اظہار کرتے ہیں، جو نہ تو خود کچھ دیتا ہے اور نہ ہی شاعر کو دوسروں سے مدد مانگنے یا بھیک مانگنے دیتا ہے۔
یہ 'مریض' کا ایک بڑا ہی گہرا اور دل چھو لینے والا شعر ہے، جہاں وہ ایک ایسے "خدا" یا قسمت کا شکوہ کر رہے ہیں جو نہ تو خود کچھ دیتا ہے اور نہ ہی کسی کو دوسروں سے مدد مانگنے کی اجازت دیتا ہے۔ یہ ایک ایسی بے بسی اور طنز کا اظہار ہے جہاں انسان چاروں طرف سے بندشوں میں گھرا ہوا محسوس کرتا ہے۔ اس میں اُس اکیلے پن اور مایوسی کی عکاسی ہے جب ہر راستہ بند ہو اور کوئی سہارا نہ ہو۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
