તૌબાની શી જરૂર કે મસ્તીમાં ઓ ‘મરીઝ',
છૂટી પડે છે હાથથી સાગર કહ્યા વિના.
“What need for repentance, O 'Mariz', when in such ecstatic sway? The goblet slips from hand, unsaid, and simply falls away.”
— مریض
معنی
توبہ کی کیا ضرورت ہے، اے 'مریض'، جب مستی کے عالم میں ساغر (شراب کا پیالہ) ہاتھ سے بے کہے چھوٹ جاتا ہے۔
تشریح
اے 'مریض'، شاعر بڑی خوبصورتی سے سوال کرتے ہیں کہ جب انسان پوری طرح مستی یا سرمستی میں ڈوبا ہو، تو توبہ کی کیا ضرورت؟ شراب کا ساغر ہاتھ سے بے اختیار گر جاتا ہے – یہ حسین تصویر مکمل ڈوب جانے کی کیفیت کو بیان کرتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسی گہری 'مستی' کے عالم میں، انسان نیکی اور بدی کی عام فکروں سے ماورا ہو جاتا ہے۔ اس حالت میں، حتیٰ کہ لذت کا عمل بھی فراموش ہو جاتا ہے، جس سے توبہ بے معنی ہو جاتی ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
← Prev11 / 11
