غزل
وہ غفلت کیش جب پُرسانِ حالِ دردمنداں تھا
وہ غفلت کیش جب پُرسانِ حالِ دردمنداں تھا
یہ غزل عشق کی اس نازک کیفیت کی عکاسی کرتی ہے جہاں محبوب کی ذرا سی توجہ درد اور دوا کا فرق مٹا دیتی ہے۔ اس میں مجازی محبت کے خطرات، دین و ایمان کی آزمائش اور بالآخر دل پر عنایتِ الٰہی کے احساس کو خوبصورت اور پُراثر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
Source: Kashkol-e-Majzoob · UR
نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
1
وہ غفلت کیش جب پُرسانِ حالِ دردمنداں تھا
تو مشکل تھا یہ کہنا درد تھا دل میں کہ درماں تھا
2
بُتوں کا عشق تھا خطرہ میں ہر دَم دین و ایماں تھا
مگر بس وہ تو یوں کہئے کہ دل پر فضلِ یزداں تھا
3
کوئی فرقت میں کب پُرسانِ حالِ درد منداں تھا
خبر لی موت نے آکر یہ اس کا عین احساں تھا
4
تعلق اتنے دن بھی بے تعلق رہ کے یکساں تھا
قیامت میں پھر اپنا ہاتھ تھا اور اُس کا داماں تھا
5
ہوئی تجویز وہ مٹی پئے خلقِ دلِ وحشی
کہ جس مٹی کے ہر ذرّہ میں مضمر اک بیاباں تھا
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
