غزل
نہ سمجھا عمر بھر کوئی کہ میں بھی تیرِ بسمل تھا
نہ سمجھا عمر بھر کوئی کہ میں بھی تیرِ بسمل تھا
یہ غزل عمر بھر کے اس پوشیدہ کرب اور تنہائی کی عکاسی کرتی ہے جسے شاعر نے ہمیشہ ہونٹوں کی مسکراہٹ کے پیچھے چھپائے رکھا۔ وہ اس دکھ کا اظہار کرتا ہے کہ دنیا نے کبھی اس کے زخمی دل کے درد کو نہ سمجھا اور ازل سے اس کا مقدر محض ناکام حسرتیں اور سوزِ دروں ہی رہا۔
Source: Kashkol-e-Majzoob · UR
نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
1
نہ سمجھا عمر بھر کوئی کہ میں بھی تیرِ بسمل تھا
لبوں پر تھی ہنسی زخموں سے چھلنی گو مرا دل تھا
2
ازل میں کیا نہ تھا ساماں مگر جو میرے قابل تھا
یہی سودا زدہ سر تھا یہی حسرت بھرا دل تھا
3
مجھ کاسہ ریز کے آگے نہ دل دنیا پہ مائل تھا
سروں میں سر مرا سر تھا دلوں میں دل مرا دل تھا
4
نہ میں دُنیا کے لائق تھا نہ میں عقبیٰ کے قابل تھا
مجھے جینا بھی تھا دشوار اور مرنا بھی مشکل تھا
5
یہ سب مانا کہ وہ سفاک تھا ظالم تھا قاتل تھا
دیا جس کو دیا ہاں پھر کسی کو کیا مرا دل تھا
6
ترا فانی تو میں پہلے ہی سے اے میرے قاتل تھا
مرے کو مارنا اے بے خبر! تحصیلِ حاصل تھا
7
پڑا ہے دم بخود مجذوبؔ کیا عجلت سے حاصل تھا
اسے چلنا طریقِ عشق میں منزل بمنزل تھا
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
