غزل
کسی سے سیکھ لے بلبل سراپا داستاں ہونا
کسی سے سیکھ لے بلبل سراپا داستاں ہونا
یہ غزل عشق میں خاموش اور باوقار ضبط کا درس دیتی ہے، جہاں دل کی کیفیت کو الفاظ کا محتاج بنانا توہینِ عشق قرار دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی یہ دنیاوی زندگی کی کشمکش، دشمنوں کے اندیشوں اور دوستوں کی یادوں میں الجھے انسانی وجود کی بے بسی کو الم انگیز انداز میں پیش کرتی ہے۔
Source: Kashkol-e-Majzoob · UR
نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
1
کسی سے سیکھ لے بلبل سراپا داستاں ہونا
ہے ننگ عشق حال دل کا محتاج بیاں رہنا
2
کوئی رہنے میں رہنا ہے یہ زیر آسماں رہنا
بہ فکر دشمناں رہنا بہ یاد دوستاں رہنا
3
جہاں رہنا ہمیں دنیا میں وقف امتحاں رہنا
کہیں جانا ہمیں ہر پھر کے زیر آسماں رہنا
4
کھٹکتا ہے یہ تنکوں کا گلوں کے درمیاں ہونا
بہت مشکل ہے اے بلبل چمن میں آشیاں رہنا
5
ہمیں دونوں برابر ہیں گلستاں ہو کہ صحرا ہو
وہیں کے ہو گئے ہم ہو گیا اپنا جہاں رہنا
6
یہ کیا طرفہ ادا، طرفہ تماشا، طرفہ پردہ ہے
میری آنکھوں میں پھرنا پھر بھی آنکھوں سے نہاں ہونا
7
خدایا رحم کر لے چارہ گر اُف کیسے گزرے گی
پڑا ہم کو جو دنیا میں نصیب دشمناں رہنا
8
خلاصہ ہم سے سُن لے کوئی آداب محبت کا
دعائیں دل میں دینا، ظلم سہنا، بے زباں رہنا
9
پڑی ہے کشمکش میں جاں پڑا ہے گومگو میں دل
یہ آخر آپ نے سیکھا ہے کس سے چیستاں ہونا
10
بھلا یہ بھی کوئی انداز ہے اے بلبل نالاں
گلوں کے درمیاں رہ کر بھی مشغول فغاں رہنا
11
یہی آتا ہے بس یا اور بھی کچھ تم کو آتا ہے
اُمیدیں توڑنا دل خون کرنا بدگماں رہنا
12
سبق آموز اہل جاہ ہے درس تواضع ہے
بایں رفعت قدم بوس زمیں ہائے آسماں رہنا
13
بھروسہ کچھ نہیں اس نفس امّارہ کا اے زاہد
فرشتہ بھی یہ ہو جائے تو اس سے بدگماں رہنا
14
نہ رہ ناشاد سالک مسلک مجذوبؔ پر آ جا
اگر ہر حال میں تو چاہتا ہے شادماں رہنا
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
