غزل

کسی پہ حالِ دل اپنا عیاں نہیں ہوتا

کسی پہ حالِ دل اپنا عیاں نہیں ہوتا

یہ غزل دل کی گہری کیفیت اور اس بے بسی کی ترجمانی کرتی ہے جسے لاکھ کوششوں کے باوجود کسی پر عیاں نہیں کیا جا سکتا۔ اس میں جبر و ستم پر خاموش صبر اور رنج و الم کا انتہائی پرتاثیر اور پُرسوز بیان ملتا ہے۔

Source: Kashkol-e-Majzoob · UR

نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
رسم الخط
1
کسی پہ حالِ دل اپنا عیاں نہیں ہوتا بیاں ہزار کروں میں بیاں نہیں ہوتا
2
مجھے خیال یہ آسماں نہیں ہوتا کہ صبرِ ظلم کبھی رائیگاں نہیں ہوتا
3
اپنے آپکے ہوتے ہیں آپ ہی دشمن وہ مہرباں کبھی نا مہرباں نہیں ہوتا
4
دلِ ناتواں ہوں ترے سالکوں میں یوں جیسے غبارِ راہ پسِ کارواں نہیں ہوتا
5
رہے گی حُسن کی ہر روز گرم بازاری گراں ہزار کرو تم گراں نہیں ہوتا
6
خدا کا حکم بجا لانا اس قدر ہے گراں بتوں کے ناز اٹھانا گراں نہیں ہوتا
7
عبث ہے فکرِ مداوا کہ موت سے پہلے سکوں پذیر یہ قلبِ تپاں نہیں ہوتا
8
وہ پوچھتے بھی ہیں آکر کبھی جو حال مرا تو لب پہ کچھ بجز آہ و فغاں نہیں ہوتا
9
اے طبیب! سراپا ہوں درد مجھ سے نہ پوچھ کہاں تو ہوتا ہے درد اور کہاں نہیں ہوتا
10
نکالو یاد حسینوں کی دل سے اے مجذوبؔ خدا کا گھر ہے یہ ذکرِ بُتاں نہیں ہوتا
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.