غزل

کسی کا جو رنہانی عیاں نہیں ہوتا

کسی کا جو رنہانی عیاں نہیں ہوتا

یہ غزل محبوب کے پوشیدہ ستم اور محبت میں خاموشی سے سہے جانے والے رنج و الم کی عکاسی کرتی ہے۔ شاعر دل پر گہرے زخم کھانے کے باوجود ان کا اظہار نہیں کر پاتا اور کسی نکتہ داں کے نہ ہونے کے باعث تنہائی میں یہ درد جھیلتا ہے۔

Source: Kashkol-e-Majzoob · UR

نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
رسم الخط
1
کسی کا جو رنہانی عیاں نہیں ہوتا ہزار کھاتا ہوں چوٹیں نشاں نہیں ہوتا
2
ادا شناس ترا بے زباں نہیں ہوتا کہے وہ کس سے کوئی نکتہ داں نہیں ہوتا
3
غضب ہے اُف ہمہ گیری دردِ دل ہمدم بدن میں سُر میں جگر میں، کہاں نہیں ہوتا
4
جنونِ عشق یہ اللہ رے تیری یک رنگی کچھ امتیاز بہار و خزاں نہیں ہوتا
5
سب ایک رنگ میں ہیں میکدے کے خورد و کلاں یہاں تفاوتِ پیر و جواں نہیں ہوتا
6
ہمیشہ رہتا ہے اک عالمِ فنا طاری میں زندہ ہوں مگر احساسِ جاں نہیں ہوتا
7
قمارِ عشق میں سب کچھ گنوا دیا میں نے اُمیدِ نفع میں خوفِ زیاں نہیں ہوتا
8
سہم رہا ہوں میں اے اہلِ قبر بتلا دو زمیں تلے تو کوئی آسماں نہیں ہوتا
9
یہاں ہے سبحہ کے دانوں میں رشتہ زنار یہ کفر شیخ کسی پر عیاں نہیں ہوتا
10
جو آپ چاہیں کہ لے لیں کسی کا مُفت میں دل تو یہ معاملہ یوں مہرباں نہیں ہوتا
11
وہ سب کے سامنے اس سادگی سے بیٹھے ہیں کہ دل چرانے کا ان پر گماں نہیں ہوتا
12
وہ محتسب ہو کہ واعظ وہ فلسفی ہو کہ شیخ کسی سے بند ترا راز داں نہیں ہوتا
13
جہاں فریب ہے مجذوبؔ ہے یہ تری صورت بُتوں کے عشق کا تجھ پر گماں نہیں ہوتا
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.