“Not by tears, nor by tyranny, nor by union, nor by bonds, The heart once stirred, cannot be restrained, forget the talk of prisons.”
جو دل ایک بار جاگ اٹھتا ہے، اسے نہ آنسوؤں سے، نہ ظلم سے، نہ وصل سے، اور نہ ہی کسی بندھن سے روکا جا سکتا ہے؛ قید کی بات تو بھول ہی جانی چاہیے۔
یہ شعر دل کی لازوال ہمت کو کتنی خوبصورتی سے بیان کرتا ہے! یہ ہمیں بتاتا ہے کہ ایک بار جب دل حقیقی معنوں میں بیدار ہو جاتا ہے یا اپنا راستہ چن لیتا ہے، تو اسے کسی بھی بیرونی طاقت سے روکا نہیں جا سکتا – نہ آنسوؤں کی التجا سے، نہ ظلم کی سختی سے، نہ وصل کے میٹھے تعلق سے، اور نہ ہی زنجیروں کی قید سے۔ شاعر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ایسے دل کو قید کرنا ناممکن ہے، خواہ وہ لفظی ہو یا جذباتی؛ اس کی آزادی مکمل ہے، اور اسے روکنے کی کوئی بھی بات بے معنی ہے۔
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
