“Tell me, where am I alone? Where no lover is found;This full cup, alas, unvalued, where no chalice is found.”
شاعر پوچھتا ہے کہ وہ کہاں اکیلا ہے، جہاں کوئی عاشق ہی نہیں ملتا۔ یہ بھرا ہوا پیالہ، افسوس، بے قدر ہے کیونکہ اسے پینے کے لیے کوئی پیالی ہی نہیں ہے۔
آہ، یہ شعر دل کو چھو جانے والی کیسی بات کہہ رہا ہے! شاعر یہاں صرف جسمانی تنہائی کی بات نہیں کر رہا، بلکہ ایک ایسی دنیا کا دکھ بیان کر رہا ہے جہاں سچا عشق یا اس کی قدر کرنے والا کوئی عاشق موجود ہی نہیں ہے۔ گویا اس کے پاس بہت کچھ ہے، جذبات کا ایک بھرا ہوا پیالہ ہے، لیکن اسے پینے والا، اس کی قدر کرنے والا کوئی خالی پیالہ (چالی) موجود نہیں ہے۔ اس طرح، اس کی ساری دولتِ دل، بے قدری کا شکار ہو کر، اسے مزید اکیلا محسوس کرواتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
