“The body is full of the mind's sorrow, like a crow's feather, whose aim is to fly a million miles. Sometimes the path of righteousness is inaccessible, sometimes the sky is filled with it.”
جسم میں دل کے غم کا بوجھ ایسا ہے، جیسے کبوتر کے پر ہوں، جس کا مقصد لاکھوں میل تک پرواز کرنا ہو۔ کبھی حق کا راستہ ناممکن ہوتا ہے، اور کبھی آسمان ہی اس میں بھر جاتا ہے۔
جب کबीर کہتے ہیں کہ جسم میں دل کا غم کبوتر کے پر جیسا ہے، تو وہ دل کی بے چینی اور غم کے بوجھ کی بات کر رہے ہیں۔ یہ پر جو لاکھوں میل دور اڑ جانا چاہتا ہے، انسان کی بے قرار خواہشات اور بھٹکنے والے مزاج کی عکاسی کرتا ہے۔ وہ پھر فرائض کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ حق کا راستہ کبھی اتنا مشکل ہو جاتا ہے کہ پہنچنا ناممکن لگتا ہے، اور کبھی ایسا لگتا ہے جیسے ہر جگہ صرف آسمان کا پھیلاؤ ہے۔ کबीर ہمیں سکھاتے ہیں کہ زندگی میں حقیقی جدوجہد صرف جسمانی سفروں میں نہیں، بلکہ اپنے دل کے اندرونی تنازعات کو سمجھنے میں ہے۔
