साधु ऐसा चहिए , जैसा सूप सुभाय। सार-सार को गहि रहे , थोथ देइ उड़ाय॥ 58॥
“A sage who is like a winnowing basket, who grasps the essence, and makes the trivial fly away.”
— کبیر
معنی
ایسا صوفی چاہیے جو چھلنی کی مانند ہو؛ جو چیز کا خلاصہ پکڑ لے اور معمولی باتوں کو اڑا دے۔
تشریح
Kabir اس شعر میں ایک مثالی صوفی کو چھاننے والے سُوپ سے تشبیہ دیتا ہے۔ یہ تشبیہ ہمیں روحانی فرق کرنے کا عمل سکھاتی ہے۔ یہ سُوپ صرف اناج نہیں، بلکہ زندگی کے اصل جوہر کو باقی تمام چیزوں سے الگ کرتا ہے۔ کبیر کا کہنا ہے کہ ایک سچے رہبر میں وہ حکمت ہونی چاہیے جو بے ہنگم باتوں اور فضول سے بچ کر صرف اصل حقیقت پر توجہ دے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
← Prev55 / 10
