वस्तु है ग्राहक नहीं , वस्तु सागर अनमोल। बिना करम का मानव , फिरैं डांवाडोल॥ 54॥
“The article is not the customer; the article is priceless ocean. A human without deeds wanders restlessly.”
— کبیر
معنی
جسمت کوئی خریدار نہیں ہے، یہ خود سمندر کی طرح انمول ہے۔ بغیر کرم کا انسان زندگی میں ہمیشہ بے قرار بھٹکتا رہتا ہے۔
تشریح
یہ شعر بتاتا ہے کہ مادی چیزیں کبھی بھی خریدار نہیں ہوتیں، بلکہ یہ خود ایک لازوال سمندر ہیں۔ اصل قدر انسان کے اعمال میں ہے؛ جس انسان کے پاس نیک کردار نہیں، وہ ہمیشہ بے قرار اور سرگرد رہتا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
← Prev51 / 10
