सुख सागर का शील है , कोई न पावे थाह। शब्द बिना साधु नही , द्रव्य बिना नहीं शाह॥

“The nature of Sukh Sagar (ocean of bliss) is beyond measure. A saint cannot exist without words, and a king cannot exist without wealth.”

— کبیر
معنی

سکھ سگر کا شیل ہے، جس کا کوئی اندازہ نہیں ہے۔ صوفی کے لیے کلمات ضروری ہیں، اور بادشاہ کے لیے دولت ضروری ہے۔

تشریح

کبیر اس شعر میں ایک گہرا فلسفیانہ نقطہ اٹھاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ خوشی کے سمندر کا اصل حال کسی کو معلوم نہیں ہوتا۔ پھر وہ ایک عملی اصول بیان کرتے ہیں: ایک سادح کو بات کی ضرورت ہے، اور ایک بادشاہ کو مال و دولت کی۔ کبیر کا پیغام یہ ہے کہ ہر مقام، چاہے وہ روحانی ہو یا دنیاوی، اپنے مخصوص وسائل کا متقاضی ہوتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

← Prev88 / 10