“Our initiation has wandered to the house of Guruva; what will the old woman and the young woman give, or what will the gift be given for a small coin?”
گرووا تو گھر فیرے، دیક્ષા ہماری لےھ۔ کائیں بوڑو کائیں اوپرُو، ٹکا پردانی دےھ॥ اس کا لفظی مطلب ہے کہ ہماری دیક્ષા گرووا کے گھر بھٹک گئی ہے، چاہے بوڑھی عورت دے یا جوان عورت، ایک چھوٹے سے سکے کے لیے کیا تحفہ دیا جائے گا۔
Kabir اس شعر میں روحانیت کے تجارتی بن جانے پر سوال اٹھاتے ہیں۔ وہ اشارہ کرتے ہیں کہ 'دیخا' (روحانی تعلیم) کو اتنا معمولی سمجھا جا رہا ہے کہ لوگ اسے معمولی تحفے یا چند سکے کے بدلے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ شاعر کا مقصد یہ بتانا ہے کہ حقیقی علم اور روحانی تجربہ کسی بھی لین دین کی چیز نہیں ہوتا۔ یہ منظر نامہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ سب سے بڑی سچائی ہمیشہ بے قیمت اور نیلے سے پرے ہوتی ہے۔
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
