सोचे गुरु के पक्ष में , मन को दे ठहराय। चंचल से निश्चल भया , नहिं आवै नहीं जाय॥ 496॥
“Having thought of the Guru's side, the mind was fixed and settled. The restless became tranquil, neither coming nor going.”
— کبیر
معنی
گورو کے خیمے میں سوچ کر، دل کو ٹھہرایا۔ چंचल سے پرسکون ہو گیا، نہ آتا ہے نہ جاتا ہے۔
تشریح
Kabir ji یہاں ایک گہرا فلسفیانہ نکتہ بیان کرتے ہیں: جب ہم اپنا دل اور ذہن اساتذہ کے سپرد کر دیتے ہیں، تو وہ بے قرار دل بھی سکون پا لیتا ہے۔ یہ سکون کسی جسمانی ٹھہراؤ سے کہیں زیادہ ہے، یہ ایک ایسا استحکام ہے جو نہ کہیں جا سکتا ہے اور نہ کہیں آ سکتا ہے۔ یہ شعر ہمیں سکھاتا ہے کہ حقیقی اطمینان صرف سرِ تسلیم خم کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
← Prev93 / 7
