“I myself am the fire of night and day, O Guru, what you desire, I shall be. I have given the invitation to Yama, let me be your guest.”
میں خود رات اور دن کی آگ ہوں، اے گرو، جو تم چاہو وہ بن جاؤں گا۔ میں نے یم کو دعوت دی ہے، میں تمہارا مہمان ہوں۔
میں خود وہ آگ ہوں جو شب و روز جلتی ہے، اے گرو، جیسا آپ چاہیں گے، میں ویسا ہی ہو جاؤں گا۔ میں نے یم کو دعوت دے دی ہے، مجھے اپنا مہمان سمجھنا۔ یہ اشعار مکمل خوداری اور بے باک समर्पण کا اظہار کرتے ہیں، جہاں शायर स्वयं को ایک کائنات کی طاقت (آگ) کے طور پر پیش کرتا ہے جو ہر حالت میں موجود ہے۔ خود کو شب و روز جلنے والی آگ قرار دینا اس بات پر زور دیتا ہے کہ وہ کسی بھی حال یا circunstance میں رہنے کو تیار ہے۔ یم کو دعوت دینا اس بات کی علامت ہے کہ اس نے زندگی اور موت کے چکر کو قبول کر لیا ہے، اور اپنی آخری منزل کا مکمل بھروسہ گرو کی فضل و کرم پر کر دیا ہے۔
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
