गुरु बिन ज्ञान न उपजै , गुरु बिन मिलै न मोष। गुरु बिन लखै न सत्य को , गुरु बिन मिटे न दोष॥ 444॥
“Without a teacher, knowledge cannot arise, Without a teacher, liberation cannot be found. Without a teacher, the truth cannot be perceived, Without a teacher, faults cannot be eliminated.”
— کبیر
معنی
اس شعر کے مطابق، اساتذہ (گرو) کے بغیر علم پیدا نہیں ہو سکتا، اور نہ ہی نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔ مزید برآں، اساتذہ کے بغیر سچائی کا ادراک نہیں ہو سکتا، اور غلطیوں کو دور نہیں کیا جا سکتا۔
تشریح
یہ شعر بتاتے ہیں کہ علم اور نجات کا سفر خود سے ممکن نہیں ہوتا۔ Kabir کا خیال ہے کہ مرشد صرف کوئی استاد نہیں، بلکہ وہ وہ چراغ ہے جو جہالت کے اندھیروں کو کاٹتا ہے۔ اس رہنمائی کے بغیر، انسان سچائی کو محض محسوس کر سکتا ہے، اسے جان نہیں سکتا، اور نہ ہی اپنے خامیوں سے پاک ہو سکتا ہے۔ یہ شاعری ہمیں یاد دلاتی ہے کہ سچا استاد ہی ہمیں خود شناسی کے مقام تک پہنچاتا ہے۔
← Prev41 / 10
