“From you, O Guru, please take knowledge, give your head (life/self) in charity. My life has been spent in much suffering; please save my pride/self-respect.”
گرو سے علم حاصل کیجیے اور سر (جان) کو صدقہ کیجیے۔ بہت دکھ بھگے ہیں، رکھئے جیوہِ اِعتبار۔
Kabir کے شاعر کا یہ شعر ایک گہرا جذباتی اعتراف ہے، جو یہ تسلیم کرتا ہے کہ سچائی کا علم حاصل کرنے کے لیے اپنے آپ کو گورو کے حوالے کرنا ضروری ہے۔ 'سر دینا' کا استعارہ غرور اور انا کو مکمل طور پر ترک کرنے کی بات کرتا ہے۔ وہ اپنی زندگی میں اٹھائے گئے شدید دکھ کا ذکر کرتے ہوئے، نہ صرف نجات مانگتے ہیں بلکہ اپنی ذات کی عزت و وقار کی حفاظت کی بھی التجا کرتے ہیں۔ یہ شعر مکمل سپردگی اور اپنی روح کی بقا کے درمیان ایک خوبصورت توازن پیش کرتا ہے۔
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
