अब तौ जूझया ही बरगै , मुडि चल्यां घर दूर। सिर साहिबा कौ सौंपता , सोंच न कीजै सूर॥ 401॥
“Now, the battle has been fought, and I am walking home, far away. I entrust my head to the Lord; do not think otherwise, O hero.”
— کبیر
معنی
اب تو جنگ ہو چکا ہے اور میں گھر دور جا رہا ہوں۔ میں اپنا سر صاحب کو سونپتا ہوں؛ ایسا نہ سوچنا، اے شیر۔
تشریح
یہ شعر ایک گہرے سپردگی (surrender) کے جذبے کو بیان کرتا ہے۔ یہاں 'جوجھنا' صرف جسمانی لڑائی نہیں، بلکہ زندگی کے تمام دکھوں اور دنیاوی تعلقات سے مقابلہ ہے۔ کبیر، یہ شاعر، ہمیں بتاتے ہیں کہ یہ جدوجہد ختم ہو چکی ہے، اور وہ اپنا سر (یعنی اپنا وجود) خدا کے حوالے کر رہے ہیں۔ یہ اعتماد کا پیغام ہے، جو ہمیں سکھاتا ہے کہ ہمیں اپنی تمام فکریں اور نتائج پروردگار کے سپرد کر دینے چاہئیں۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
1 / 10Next →
