कबीरा प्रेम न चषिया , चषि न लिया साव। सूने घर का पांहुणां , ज्यूं आया त्यूं जाव॥ 250॥
“Kabira, do not drink the nectar of love; do not take a single sip. Like the footsteps that came to the empty house, so too will you depart.”
— کبیر
معنی
کبیرا، محبت کا نِکَوڑ نہ پی اور نہ ہی ایک گھونٹ لینا۔ جیسے یہ قدم خالی گھر میں آئے تھے، ویسے ہی چلے جائیں گے۔
تشریح
کبیر نے یہاں خالی گھر کے قدموں کا خوبصورت استعارہ استعمال کیا ہے تاکہ ہمیں فانی ہونے کا سبق سکھائیں۔ وہ ہمیں 'محبت کے نَے٘کَتر' میں ڈوب ہونے سے منع کرتے ہیں، یعنی دنیاوی لگاؤ سے بے تعلق رہنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ اس شعر کا پیغام واضح ہے کہ جس طرح خالی گھر میں قدم آتے ہیں اور جاتے ہیں، اسی طرح ہماری زندگی بھی عارضی ہے۔ یہ کبیر کا نرم نصیحت ہے کہ ہمیں ہر چیز کو بے تعلق دل سے قبول کرنا چاہیے۔
← Prev49 / 10
