राम पियारा छांड़ि करि , करै आन का जाप। बेस्या केरा पूतं ज्यूं , कहै कौन सू बाप॥ 249॥
“Leaving Rama and Priya, he chants the name of Ananda. Like a prostitute's son, who can say who his father is?”
— کبیر
معنی
رام پیارا چھوڑ کر، وہ انند کا जाप کرتا ہے۔ وہ تو بے سیا کے بیٹے کے مانند ہے، کہ اس کا باپ کون ہے، یہ کوئی نہیں کہہ سکتا۔
تشریح
سنو، کबीर اس شعر میں ایک بہت گہری بات کہہ رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جو شخص حقیقی محبت (رام-پریا) کو چھوڑ کر صرف کسی بیرونی نعرے (انند) میں کھو جاتا ہے، اس کا یہ عمل بے معنی ہے۔ کبیر اسے ایک ویشیا کے بیٹے سے تشبیہ دیتے ہیں، جو یہ نہیں بتا سکتا کہ اس کا اصل باپ کون ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ صرف نام جپنا ہی عبادت نہیں؛ دل میں سچا تعلق ہونا ضروری ہے۔
← Prev48 / 10
