यह तन विष की बेलरी , गुरु अमृत की खान। सीस दिये जो गुरु मिलै , तो भी सस्ता जान॥ 247॥
“This body is a creeper of poison, yet a mine of the Guru's nectar. Even if one sacrifices their head to meet the Guru, consider it cheap.”
— کبیر
معنی
یہ تن زہر کی بیل ہے، مگر یہ گرو کے نکتار کا ذخیرہ بھی ہے۔ اگر گرو سے ملنے کے لیے سر بھی قربان کرنا پڑے، تو بھی اسے سستا نہیں سمجھنا چاہیے۔
تشریح
یہ تن زہر کی بیلری ہے، مگر یہ گرو کے نکتار کا ذخیرہ بھی ہے۔ یہ تضاد کبیر کا گہرا فلسفیانہ پیغام ہے: زندگی خود ایک خطرہ اور نجات کا ذریعہ دونوں ہے۔ اس لیے، کبیر کہتے ہیں کہ گرو سے ملنے کے لیے سر بھی دینا سستا ہے، کیونکہ اس کا مقام بہت قیمتی ہے۔
← Prev46 / 10
