“The Beloved, who used to ignore me, now spoke with me as one. The clouds of love rained down, and my being was drenched.”
ستگور! تم مجھ سے ناراض ہو کر، ایک بار بات کر لو۔ محبت کے بادل برسے اور میرا وجود بھیگ گیا۔
Kabir یہاں محبت کے تجربے کو ایک شاندار استعارہ میں بیان کر رہے ہیں۔ 'सतگور' کا پہلے نظر انداز کرنا، اور پھر اچانک ساتھ بات کرنا، یہ جدائی سے ملاقات کی حالت ہے۔ یہاں محبت کو بادلوں کی صورت میں دکھایا گیا ہے، جو برس کر روح کو مکمل طور پر بھگو دیتا ہے۔ یہ احساس بتاتا ہے کہ جب خدا کی رحمت برستی ہے، تو دل مکمل طور پر مطمئن اور جذباتی ہو جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
