“Crossing the ocean of 'Rama-Nama' (the name of Rama), I have nothing to give to God. What can I take, O content-hearted one, that remains in my mind? O, I sacrifice myself to the Guru, who spoke of God like a little fire. He did not speak even once.”
رام نام کے سمندر کو پار کرنے پر، میرے پاس خدا کو کچھ دینے کے لیے نہیں ہے۔ اے سنت، میں اپنے دل میں کیا رکھوں؟ میں اس گرو پر قربان ہوں، جس نے خدا کی بات ایک چھوٹی سی آگ کی طرح کی۔ اس نے ایک بار بھی نہیں بولا۔
یہ اشعار باطنی سفر اور حقیقی علم کے تصور پر بات کرتے ہیں۔ شاعر کबीर کہتے ہیں کہ جب دل 'رام نام' کے سمندر کو پار کر لیتا ہے، تو اس کے پاس خدا کو دینے کے لیے کچھ نہیں بچتا۔ اصل پیغام یہ ہے کہ سچا مرشد وہ ہے جو اپنی خاموش موجودگی سے زندگی میں آگ جیسا علم پیدا کرتا ہے، نہ کہ الفاظ سے۔ کبیر ہمیں سکھاتے ہیں کہ سب سے بڑی نذرانہ خود کی بیداری ہے۔
