Sukhan AI
साँझ पड़े दिन बीतबै , चकवी दीन्ही रोय। चल चकवा वा देश को , जहाँ रैन नहिं होय॥ 234॥

As evening falls, the day passes away, the cuckoo cries and we weep. Oh cuckoo, go to that land, where the night does not exist.

کبیر
معنی

جب شام ڈھلتی ہے اور دن گزر جاتا ہے، چقوی روتی ہے اور ہم بھی روتے ہیں۔ اے چقوہ، تم اس ملک چلے جا جہاں رات نہیں ہوتی۔

تشریح

Kabir اس شعر میں وقت کے گزرنے کو شام ڈھلنے اور چقندر کی آواز سے تشبیہ دیتا ہے، جو زندگی کے چکروں میں ایک گہرا غم چھپا دیتا ہے۔ دن کا رات میں بدلنا انسانی دکھ اور فانی ہونے کا احساس ہے، اور یہ آواز محض جگہ کی نہیں بلکہ ایک روحانی پکار ہے۔ کبیر ہمیں اس دنیاوی گھبراہٹ سے نکال کر ایک ایسے لازوال مقام کی طرف بلاتے ہیں جہاں جہالت اور غم کی رات کبھی نہ ہو۔

آڈیو

تلاوت
ہندی معنیIn app
انگریزی معنیIn app
ہندی تشریحIn app
انگریزی تشریحIn app
← Prev34 / 10