सन्त पुरुष की आरसी , सन्तों की ही देह। लखा जो चहे अलख को , उन्हीं में लख लेह॥ 127॥
“The mirror of the saintly man, is the body of the saints. For those who desire the imperceptible, they find it in them.”
— کبیر
معنی
संत पुरुष کا جسم ایک آئینہ ہے۔ جو شخص علامتی (علمِ حق) کا خواہاں ہے، اسے وہ انہی میں مل جاتا ہے۔
تشریح
Kabir صاحب کہتے ہیں کہ ایک سچے سنت کا وجود خود ایک آئینہ ہے۔ یہ آئینہ صرف ظاہری حسن کو نہیں، بلکہ اس پوشیدہ (الخ) حقیقت کو دکھاتا ہے۔ جو شخص اس نادیدہ سچائی کی تلاش میں ہے، وہ اسے سنت کے اندر ہی پائے گا۔ یہ شعر سادگی سے سچائی کی عکاسی کرتا ہے، کہ سچے انسان میں ہی خدا کا عکس موجود ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
← Prev27 / 10
