जो तु चाहे मुक्त को , छोड़े दे सब आस। मुक्त ही जैसा हो रहे , बस कुछ तेरे पास॥ 122॥
“Whatever you desire to be free from, abandon all attachments. Just as you are becoming free, only you remain with me.”
— کبیر
معنی
جو تُو چاہے مُفت کو، چھوڑ دے سَب آس۔ مُفت ہی جیسا ہو رہی، بس کچھ تیرے پاس۔
تشریح
Kabir یہاں ایک گہرا نکتہ پیش کرتے ہیں: اگر آپ حقیقی آزادی چاہتے ہیں، تو سب سے پہلے تمام دنیاوی آسائشوں اور تعلقات کو چھوڑ دیں۔ وہ اشارہ دیتے ہیں کہ یہ تمام تعلقات محض وہم ہیں جو روح کی اصل فطرت کو دھندلا کرتے ہیں۔ یہ شعر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جیسے ہی ہم ان بندھنوں کو ترک کرتے ہیں، جو خالص، آزاد وجود ہے، وہی ہمیشہ سے الہٰی سے جڑا رہتا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
← Prev22 / 10
