غزل

جو طوفانوں میں پلتے جا رہے ہیں

جو طوفانوں میں پلتے جا رہے ہیں
جگر مرادآبادی· Ghazal· 5 shers· radif: जा रहे हैं

یہ غزل عزم و حوصلہ، جدوجہد اور انقلابی فکر کی عکاسی کرتی ہے۔ اس میں یہ واضح پیغام دیا گیا ہے کہ جو لوگ مصائب اور طوفانوں کا مردانہ وار مقابلہ کرتے ہیں، وہی دنیا میں مثبت تبدیلی لانے اور نئے دور کا آغاز کرنے کا سبب بنتے ہیں۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
رسم الخط
1
जो तूफ़ानों में पलते जा रहे हैं वही दुनिया बदलते जा रहे हैं
جو طوفانوں میں پلتے جا رہے ہیں وہی دنیا بدلتے جا رہے ہیں
2
निखरता आ रहा है रंग-ए-गुलशन ख़स ओ ख़ाशाक जलते जा रहे हैं
نکھرتا آ رہا ہے رنگ گلشن خس و خاشاک جلتے جا رہے ہیں
3
वहीं मैं ख़ाक उड़ती देखता हूँ जहाँ चश्मे उबलते जा रहे हैं
وہیں میں خاک اڑتی دیکھتا ہوں جہاں چشمے ابلتے جا رہے ہیں
4
चराग़-ए-दैर-ओ-काबा अल्लाह अल्लाह हवा की ज़िद पे जलते जा रहे हैं
چراغ دیر و کعبہ اللہ اللہ ہوا کی ضد پہ جلتے جا رہے ہیں
5
शबाब ओ हुस्न में बहस आ पड़ी है नए पहलू निकलते जा रहे हैं
شباب و حسن میں بحث آ پڑی ہے نئے پہلو نکلتے جا رہے ہیں
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

جو طوفانوں میں پلتے جا رہے ہیں | Sukhan AI