غزل

جو اب بھی نہ تکلیف فرمائیے گا

جو اب بھی نہ تکلیف فرمائیے گا
جگر مرادآبادی· Ghazal· 17 shers

یہ غزل محبوب سے ایک شوخ مگر پرخلوص التجا پر مبنی ہے، جس میں اسے وقت رہتے بے رخی چھوڑ کر محبت قبول کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ شاعر اپنے پرعزم عشق کا اظہار کرتے ہوئے یہ یقین دلاتا ہے کہ محبوب خواہ کہیں بھی چلا جائے، وہ ہر موڑ پر اس کی محبت کی موجودگی ہی پائے گا۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
رسم الخط
1
जो अब भी न तकलीफ़ फ़रमाइएगा तो बस हाथ मलते ही रह जाइएगा
جو اب بھی نہ تکلیف فرمائیے گا تو بس ہاتھ ملتے ہی رہ جائیے گا
2
निगाहों से छुप कर कहाँ जाइएगा जहाँ जाइएगा हमें पाइएगा
نگاہوں سے چھپ کر کہاں جائیے گا جہاں جائیے گا ہمیں پائیے گا
3
मिरा जब बुरा हाल सुन पाइएगा ख़िरामाँ ख़िरामाँ चले आइएगा
مرا جب برا حال سن پائیے گا خراماں خراماں چلے آئیے گا
4
मिटा कर हमें आप पछ्ताइएगा कमी कोई महसूस फ़रमाइएगा
مٹا کر ہمیں آپ پچھتائیے گا کمی کوئی محسوس فرمائیے گا
5
नहीं खेल नासेह जुनूँ की हक़ीक़त समझ लीजिएगा तो समझाइएगा
نہیں کھیل ناصح جنوں کی حقیقت سمجھ لیجئے گا تو سمجھائیے گا
6
हमें भी ये अब देखना है कि हम पर कहाँ तक तवज्जोह न फ़रमाइएगा
ہمیں بھی یہ اب دیکھنا ہے کہ ہم پر کہاں تک توجہ نہ فرمائیے گا
7
सितम इश्क़ में आप आसाँ न समझें तड़प जाइएगा जो तड़पाइएगा
ستم عشق میں آپ آساں نہ سمجھیں تڑپ جائیے گا جو تڑپائیے گا
8
ये दिल है इसे दिल ही बस रहने दीजे करम कीजिएगा तो पछ्ताइएगा
یہ دل ہے اسے دل ہی بس رہنے دیجے کرم کیجئے گا تو پچھتائیے گا
9
कहीं चुप रही है ज़बान-ए-मोहब्बत न फ़रमाइएगा तो फ़रमाइएगा
کہیں چپ رہی ہے زبان محبت نہ فرمائیے گا تو فرمائیے گا
10
भुलाना हमारा मुबारक मुबारक मगर शर्त ये है न याद आइएगा
بھلانا ہمارا مبارک مبارک مگر شرط یہ ہے نہ یاد آئیے گا
11
हमें भी न अब चैन आएगा जब तक इन आँखों में आँसू न भर लाइएगा
ہمیں بھی نہ اب چین آئے گا جب تک ان آنکھوں میں آنسو نہ بھر لائیے گا
12
तिरा जज़्बा-ए-शौक़ है बे-हक़ीक़त ज़रा फिर तो इरशाद फ़रमाइएगा
ترا جذبۂ شوق ہے بے حقیقت ذرا پھر تو ارشاد فرمائیے گا
13
हमीं जब न होंगे तो क्या रंग-ए-महफ़िल किसे देख कर आप शरमाइएगा
ہمیں جب نہ ہوں گے تو کیا رنگ محفل کسے دیکھ کر آپ شرمایئے گا
14
ये माना कि दे कर हमें रंज-ए-फ़ुर्क़त मुदावा-ए-फ़ुर्क़त न फ़रमाइएगा
یہ مانا کہ دے کر ہمیں رنج فرقت مداوائے فرقت نہ فرمائیے گا
15
मोहब्बत मोहब्बत ही रहती है लेकिन कहाँ तक तबीअत को बहलाइएगा
محبت محبت ہی رہتی ہے لیکن کہاں تک طبیعت کو بہلایئے گا
16
न होगा हमारा ही आग़ोश ख़ाली कुछ अपना भी पहलू तही पाइएगा
نہ ہوگا ہمارا ہی آغوش خالی کچھ اپنا بھی پہلو تہی پائیے گا
17
जुनूँ की 'जिगर' कोई हद भी है आख़िर कहाँ तक किसी पर सितम ढाइएगा
جنوں کی جگرؔ کوئی حد بھی ہے آخر کہاں تک کسی پر ستم ڈھایئے گا
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

جو اب بھی نہ تکلیف فرمائیے گا | Sukhan AI