ہائے وہ لمحۂ سکوں کہ جسے محشر اضطراب ہونا تھا

“Alas, that fleeting moment of calm, destined to become an apocalypse of restless agony.”

— جگر مرادآبادی
معنی

افسوس سکون کے اس لمحے پر، جسے آگے چل کر شدید بے چینی اور اضطراب کا طوفان بننا تھا۔

تشریح

شاعر اِس شعر میں زندگی کے ایک تلخ المیے کو بیان کر رہے ہیں، جہاں سکون کی ایک مختصر سی گھڑی آگے چل کر بے پناہ تڑپ اور اضطراب کا پیش خیمہ بن گئی۔ لفظ ’ہائے‘ دل کی اُس گہری حسرت کو ظاہر کرتا ہے کہ جس لمحے کو راحت کا ذریعہ سمجھا گیا تھا، وہی دراصل ایک نہ ختم ہونے والے درد کا محشر ثابت ہوا۔ یہ شعر اِس حقیقت کو بڑی خوبصورتی سے سمجھاتا ہے کہ کبھی کبھی کسی لمحے کی خاموشی اپنے اندر بے چینی کا ایک پورا طوفان سمیٹے ہوتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.