“The world does not possess the might to wipe our name away; the world itself exists through us, not we beneath its sway.”
زمانے میں اتنی طاقت نہیں کہ وہ ہمیں مٹا سکے؛ زمانہ خود ہمارے ہونے سے قائم ہے، ہم زمانے کے دم سے نہیں ہیں۔
یہ جگر مراد آبادی کا وہ لازوال شعر ہے جو انسان کو اس کی عظمت، غیرت اور خودداری کا احساس دلاتا ہے۔ شاعر زمانے کے سامنے بے بس ہونے کے بجائے کائنات کے ساتھ انسان کے رشتے کا رخ ہی بدل دیتا ہے، کہ انسان ہی اصل میں اس دنیا کا حسن اور روح ہے۔ یہ شعر مشکل ترین حالات میں بھی مایوس نہ ہونے اور اپنے باطنی وقار پر بھروسا رکھنے کا ولولہ انگیز پیغام دیتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
