“What of a drop, what of a river, whose tempest, whose rising wave? / If You so will, even the dry shore can drown me.”
قطرے، دریا، طوفان یا لہروں کی کیا حیثیت ہے؟ اگر تیری مرضی ہو تو ساحل کی سوکھی زمین بھی مجھے ڈبو سکتی ہے۔
اس شعر میں شاعر محبوبِ حقیقی کی قدرتِ کاملہ کے آگے اپنی بے بسی اور مکمل سپردگی کا احوال بیان کر رہا ہے۔ عام طور پر ڈوبنے کے لیے دریاؤں، موجوں اور تند و تیز طوفانوں کی ضرورت سمجھی جاتی ہے، مگر شاعر ان سب اسباب کو ہیچ گردانتا ہے۔ اس کا ماننا ہے کہ اصل اثر صرف تیری مرضی میں ہے—اگر تیرا اشارہ ہو، تو طوفان کے بغیر بھی حفاظت کی علامت سمجھا جانے والا خشک ساحل انسان کو غرق کر سکتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
