“I keep blackening the scroll of my misdeeds, / Calling forth a mercy that every bound exceeds.”
میں گناہوں کے ذریعے اپنے اعمال نامے کو سیاہ کرتا جا رہا ہوں اور اس طرح خدا کی رحمت کو بے انتہا بنائے جا رہا ہوں۔
اس شعر میں شاعر اپنے نامۂ اعمال کو گناہوں سے سیاہ کرنے کا اعتراف کر رہا ہے، مگر اس اعتراف میں ندامت سے زیادہ اپنے رب پر ایک والہانہ ناز اور بھروسا جھلکتا ہے۔ خیال کتنا دلکش ہے کہ انسان کی لغزشیں جتنی بڑھیں گی، پروردگار کی بے کراں رحمت کا سمندر اتنا ہی موجزن ہو کر بخشش کا سامان کرے گا۔ یہ انسان کی کمزوری کے مقابلے میں خدا کی بے پایاں مغفرت پر ایک عاشقانہ اور بے باک یقین کا اظہار ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
