“Joyless is the heart, yet I go on living; / Empty is the glass, yet I go on drinking.”
میرا دل بے مزہ اور بے کیف ہے پھر بھی میں جیے جا رہا ہوں، اور جام خالی ہے پھر بھی میں پیے جا رہا ہوں۔
یہ شعر زندگی کے اس کھوکھلے پن کی دلگداز تصویر کشی کرتا ہے جہاں دل کسی بھی لذت سے محروم ہو چکا ہے، مگر وجود محض ایک عادت کے تحت سانسیں کھینچے جا رہا ہے۔ خالی شیشے سے گھونٹ بھرنے کا استعارہ یہ بتاتا ہے کہ روح اندر سے بالکل سوکھ چکی ہے مگر انسان پھر بھی جینے کا ناٹک کیے جا رہا ہے۔ یہ دراصل اُس اداس کیفیت کا نام ہے جہاں زندگی کوئی جشن نہیں بلکہ ایک بے کیف رسم بن کر رہ جاتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
