غزل

برابر سے بچ کر گزر جانے والے

برابر سے بچ کر گزر جانے والے
جگر مرادآبادی· Ghazal· 5 shers· radif: जाने वाले

یہ غزل محبوب کی بے رخی اور نظر انداز کرنے کے رویے پر عاشق کے درد اور شکوے کو پیش کرتی ہے، ساتھ ہی یہ یقین بھی دلاتی ہے کہ دل سے نکلی آہیں کبھی بے اثر نہیں ہوتیں۔ اس میں راہِ محبت کے مسافروں کی بے سمتی، وارفتگی اور مسلسل تلاش کی تڑپ کو خوبصورت انداز میں اجاگر کیا گیا ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
رسم الخط
1
बराबर से बच कर गुज़र जाने वाले ये नाले नहीं बे-असर जाने वाले
برابر سے بچ کر گزر جانے والے یہ نالے نہیں بے اثر جانے والے
2
नहीं जानते कुछ कि जाना कहाँ है चले जा रहे हैं मगर जाने वाले
نہیں جانتے کچھ کہ جانا کہاں ہے چلے جا رہے ہیں مگر جانے والے
3
मिरे दिल की बेताबियाँ भी लिए जा दबे पाँव मुँह फेर कर जाने वाले
مرے دل کی بیتابیاں بھی لیے جا دبے پاؤں منہ پھیر کر جانے والے
4
तिरे इक इशारे पे साकित खड़े हैं नहीं कह के सब से गुज़र जाने वाले
ترے اک اشارے پہ ساکت کھڑے ہیں نہیں کہہ کے سب سے گزر جانے والے
5
मोहब्बत में हम तो जिए हैं जिएँगे वो होंगे कोई और मर जाने वाले
محبت میں ہم تو جیے ہیں جئیں گے وہ ہوں گے کوئی اور مر جانے والے
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

برابر سے بچ کر گزر جانے والے | Sukhan AI