“Would Love of itself ever concede an utter, unconditional defeat? / Their heart too must be in collusion; this is not the work of eyes alone.”
عشق اپنی کھلی اور غیر مشروط شکست کبھی خود قبول نہیں کر سکتا؛ اس میں ضرور ان کے دل کی بھی کوئی سازش ہے کیونکہ یہ محض نظروں کا کام نہیں ہو سکتا۔
عشق جیسا باوقار اور سرکش جذبہ اتنی آسانی سے اپنی مکمل اور غیر مشروط ہار کیسے تسلیم کر سکتا ہے؟ شاعر بڑے پیارے انداز میں یہ راز کھولتا ہے کہ یہ مکمل خودسپردگی محض چند لمحوں کے نظریں ملانے کا نتیجہ نہیں ہو سکتی۔ اس دلکش ہار کے پیچھے ضرور محبوب کے دل کی بھی کوئی پوشیدہ سازش کارفرما ہے، جس نے عشق کو دل کی گہرائیوں میں قید کر لیا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
