آنا ہے جو بزم جاناں میں پندار خودی کو توڑ کے آ اے ہوش و خرد کے دیوانے یاں ہوش و خرد کا کام نہیں

“If you seek to enter the beloved's gathering, shatter the pride of self and come; O devotee of intellect and reason, here sense and wisdom have no place.”

— جگر مرادآبادی
معنی

اگر محبوب کی محفل میں آنا ہے تو اپنی خودی اور انا کے غرور کو توڑ کر آؤ۔ اے عقل و ہوش کے دلدادہ، یہاں عقل اور دانائی کا کوئی کام نہیں ہے۔

تشریح

یہ شعر عقل اور عشق کے ازلی ٹکراؤ کو نہایت دلکش انداز میں بیان کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ محبوب کی بزم میں انا، غرور اور خود پسندی کا بوجھ اٹھا کر نہیں آیا جا سکتا، بلکہ یہاں داخلے کی پہلی شرط ہی اپنی ہستی کو مٹا دینا ہے۔ ’ہوش و خرد کے دیوانے‘ کی خوبصورت ترکیب کے ذریعے عقل پرستی پر ایک لطیف طنز کیا گیا ہے، کیونکہ سچے پیار کے دیس میں منطق اور حساب کتاب کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.