یارب یہ مقام عشق ہے کیا گو دیدہ و دل ناکام نہیں تسکین ہے اور تسکین نہیں آرام ہے اور آرام نہیں

“O Lord, what station of love is this? Though eye and heart are not unfulfilled, there is solace, yet no solace; there is rest, yet no rest.”

— جگر مرادآبادی
معنی

اے خدا، یہ عشق کی کیسی منزل ہے؟ اگرچہ آنکھ اور دل ناکام نہیں ہیں، پھر بھی یہاں تسکین ہے بھی اور نہیں بھی، آرام ہے بھی اور نہیں بھی۔

تشریح

جگر مراد آبادی یہاں عشق کی اس پرکیف منزل کا بیان کر رہے ہیں جہاں عاشق نہ تو محرومِ وصل ہے اور نہ دل ناکام، پھر بھی ایک عجیب اضطراب قائم ہے۔ محبوب کا دیدار اور قرب حاصل ہونے کے باوجود دل کو ایسا سکون ملتا ہے جو اپنے اندر ایک نہ ختم ہونے والی تڑپ چھپائے ہوئے ہے۔ یہ شعر عشق کے اس لطیف راز کو کھولتا ہے کہ سچی محبت میں تسکین مل جانے کے بعد بھی پیاس مٹتی نہیں بلکہ اور بڑھ جاتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.