“Ask not, alas, of separation's bitter yield, O Jigar—this life that lingers is now a torment unto itself.”
اے جگرؔ، جدائی کا حاصل مت پوچھو؛ اب جو یہ بچی ہوئی جان ہے، وہ خود اپنے لیے ہی ایک عذاب بن چکی ہے۔
جگر مراد آبادی اس شعر میں ہجر کی بے بسی اور دکھ کو نہایت پردرد انداز میں پیش کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ محبوب کے بچھڑنے کے بعد میرے پاس جو کچھ جمع پونجی بچی ہے، اس کا تو اب کچھ ذکر ہی نہ کرو۔ المیہ یہ ہے کہ اب صرف ایک جان باقی ہے، مگر وہی زندگی جس پر کبھی ناز تھا، اب اپنے ہی وجود کے لیے ایک مستقل عذاب اور اذیت بن چکی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
