غزل

وارستہ اس سے ہیں کہ محبت ہی کیوں نہ ہو

وارستہ اس سے ہیں کہ محبت ہی کیوں نہ ہو
مرزا غالب· Ghazal· 10 shers· radif: हो

یہ غزل جذباتی لاتعلقی اور محبت کے دائمی درد کے تضاد کو بیان کرتی ہے۔ شاعر محبت سے آزاد ہونا چاہتا ہے، اسے ایک بوجھ سمجھتا ہے، پھر بھی حسد کی چبھن محسوس کرتا ہے اور سوال کرتا ہے کہ ہر دوسرے درد کا علاج کیوں ہے، لیکن الفت کے غم کا نہیں۔ یہ مکمل بے حسی کے بجائے، اگرچہ تصادم کے ذریعے ہی سہی، ایک حل کی خواہش کو ظاہر کرتی ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
वारस्ता उस से हैं कि मोहब्बत ही क्यूँ न हो कीजे हमारे साथ अदावत ही क्यूँ न हो
وارستہ اس سے ہیں کہ محبت ہی کیوں نہ ہو کیجے ہمارے ساتھ عداوت ہی کیوں نہ ہو
ہم اس سے بے تعلق ہیں، خواہ وہ محبت ہی کیوں نہ ہو؛ تو ہمارے ساتھ عداوت ہی کیوں نہ کی جائے؟ ہمیں کوئی پرواہ نہیں۔
2
छोड़ा न मुझ में ज़ोफ़ ने रंग इख़्तिलात का है दिल पे बार नक़्श-ए-मोहब्बत ही क्यूँ न हो
چھوڑا نہ مجھ میں ضعف نے رنگ اختلاط کا ہے دل پہ بار نقش محبت ہی کیوں نہ ہو
کمزوری نے مجھ میں میل جول کا کوئی اثر نہیں چھوڑا ہے۔ محبت کا نقش بھی اب دل پر ایک بوجھ ہے۔
3
है मुझ को तुझ से तज़्किरा-ए-ग़ैर का गिला हर-चंद बर-सबील-ए-शिकायत ही क्यूँ न हो
ہے مجھ کو تجھ سے تذکرۂ غیر کا گلہ ہر چند بر سبیل شکایت ہی کیوں نہ ہو
مجھے تم سے غیروں کا تذکرہ کرنے کی شکایت ہے، چاہے وہ شکایت کے طور پر ہی کیوں نہ ہو۔
4
पैदा हुई है कहते हैं हर दर्द की दवा यूँ हो तो चारा-ए-ग़म-ए-उल्फ़त ही क्यूँ न हो
پیدا ہوئی ہے کہتے ہیں ہر درد کی دوا یوں ہو تو چارۂ غم الفت ہی کیوں نہ ہو
لوگ کہتے ہیں کہ ہر درد کی دوا پیدا ہوئی ہے۔ اگر ایسا ہے تو غمِ الفت کا چارہ کیوں نہ ہو؟
5
डाला न बे-कसी ने किसी से मुआ'मला अपने से खींचता हूँ ख़जालत ही क्यूँ न हो
ڈالا نہ بے کسی نے کسی سے معاملہ اپنے سے کھینچتا ہوں خجالت ہی کیوں نہ ہو
میری بے کسی نے کبھی مجھے کسی سے مدد کے لیے معاملات کرنے پر مجبور نہیں کیا۔ میں سب کچھ اپنی ذات سے ہی حاصل کرتا ہوں، خواہ وہ صرف شرمندگی ہی کیوں نہ ہو۔
6
है आदमी बजाए ख़ुद इक महशर-ए-ख़याल हम अंजुमन समझते हैं ख़ल्वत ही क्यूँ न हो
ہے آدمی بجائے خود اک محشر خیال ہم انجمن سمجھتے ہیں خلوت ہی کیوں نہ ہو
آدمی بذاتِ خود خیالات کا ایک ہنگامہ ہے۔ ہم اسے ایک انجمن سمجھتے ہیں، خواہ وہ خلوت میں ہی کیوں نہ ہو۔
7
हंगामा-ए-ज़बूनी-ए-हिम्मत है इंफ़िआल हासिल न कीजे दहर से इबरत ही क्यूँ न हो
ہنگامۂ زبونی ہمت ہے انفعال حاصل نہ کیجے دہر سے عبرت ہی کیوں نہ ہو
ہمت کی کمزوری سے پیدا ہونے والا شور و غل درحقیقت شرمندگی ہے۔ دنیا سے کچھ بھی حاصل نہ کریں، چاہے وہ صرف ایک سبق ہی کیوں نہ ہو۔
8
वारस्तगी बहाना-ए-बेगानगी नहीं अपने से कर न ग़ैर से वहशत ही क्यूँ न हो
وارستگی بہانۂ بیگانگی نہیں اپنے سے کر نہ غیر سے وحشت ہی کیوں نہ ہو
وارستگی دوسروں سے دوری کا بہانہ نہیں ہے۔ اسے اپنے ساتھ برتو، نہ کہ دوسروں سے وحشت یا بیگانگی اختیار کرو۔
9
मिटता है फ़ौत-ए-फ़ुर्सत-ए-हस्ती का ग़म कोई उम्र-ए-अज़ीज़ सर्फ़-ए-इबादत ही क्यूँ न हो
مٹتا ہے فوت فرصت ہستی کا غم کوئی عمر عزیز صرف عبادت ہی کیوں نہ ہو
ہستی کے مواقع گنوانے کا غم کبھی نہیں مٹتا، چاہے انسان اپنی قیمتی زندگی عبادت میں ہی کیوں نہ گزار دے۔ زندگی کے ضائع شدہ مواقع کا افسوس صرف عبادات سے ختم نہیں ہوتا۔
10
उस फ़ित्ना-ख़ू के दर से अब उठते नहीं 'असद' उस में हमारे सर पे क़यामत ही क्यूँ न हो
اس فتنہ خو کے در سے اب اٹھتے نہیں اسدؔ اس میں ہمارے سر پہ قیامت ہی کیوں نہ ہو
اسد، میں اب اُس فتنہ خُو کے در سے نہیں اٹھتا، چاہے وہاں میرے سر پر قیامت ہی کیوں نہ آ جائے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.