Sukhan AI
غزل

تسکیں کو ہم نہ روئیں جو ذوقِ نظر ملے

تسکیں کو ہم نہ روئیں جو ذوقِ نظر ملے
مرزا غالب· Ghazal· 7 shers· radif: मिले

یہ غزل محبوب کے لیے گہری تڑپ اور ان کی خوبصورتی کی ایک جھلک کو تمام آسائشوں سے بڑھ کر بتاتی ہے۔ اس میں مرنے کے بعد بھی محبوب کی رازداری برقرار رکھنے کی ایک دلگداز خواہش اور ساقی سے شراب کا پرجوش مطالبہ بیان کیا گیا ہے۔ شاعر اپنے دوست کے ذریعے محبوب تک اپنا سلام پہنچانے کی بات بھی کرتا ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
तस्कीं को हम रोएँ जो ज़ौक़-ए-नज़र मिले हूरान-ए-ख़ुल्द में तिरी सूरत मगर मिले
ہم تسکین کے لیے نہ روتے اگر ہمیں دیکھنے کا ذوق ملتا، بشرطیکہ ہمیں جنت کی حوروں میں بھی تمہاری صورت دیکھنے کو ملے۔
2
अपनी गली में मुझ को कर दफ़्न 'अद-ए-क़त्ल मेरे पते से ख़ल्क़ को क्यूँ तेरा घर मिले
مجھے قتل کے بعد اپنی گلی میں دفن مت کرنا، تاکہ لوگ میرے پتے (قبر) سے تیرا گھر نہ ڈھونڈ سکیں۔
3
साक़ी-गरी की शर्म करो आज वर्ना हम हर शब पिया ही करते हैं मय जिस क़दर मिले
آج ساقی گری کی کچھ شرم کرو، ورنہ ہم تو ہر رات جتنی بھی مے ملے پی ہی لیتے ہیں۔
4
तुझ से तो कुछ कलाम नहीं लेकिन नदीम मेरा सलाम कहियो अगर नामा-बर मिले
اے ندیم، میرا تجھ سے تو کوئی براہ راست کلام نہیں ہے، لیکن اگر تمہیں نامہ بر ملے تو اسے میرا سلام کہنا۔
5
तुम को भी हम दिखाएँ कि मजनूँ ने क्या किया फ़ुर्सत कशाकश-ए-ग़म-ए-पिन्हाँ से गर मिले
ہم بھی تمہیں دکھائیں گے کہ مجنوں نے کیا کیا، اگر ہمیں چھپے ہوئے غم کی کشمکش سے فرصت ملے۔
6
लाज़िम नहीं कि ख़िज़्र की हम पैरवी करें जाना कि इक बुज़ुर्ग हमें हम-सफ़र मिले
یہ لازمی نہیں کہ ہم خضر کی راہ پر چلیں، بھلے ہی ہمیں ایک بزرگ ہم سفر مل گیا ہو۔
7
साकिनान-ए-कूचा-ए-दिलदार देखना तुम को कहीं जो 'ग़ालिब'-ए-आशुफ़्ता-सर मिले
اے محبوب کی گلی کے باسیو، ذرا غور سے دیکھنا، کہیں تمہیں پریشان حال غالب مل جائے۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.