غزل
شمارِ صبح مرغوبِ بتِ مشکل پسند آیا
شمارِ صبح مرغوبِ بتِ مشکل پسند آیا
یہ غزل ایک گہرے اور اکثر یکطرفہ عشق کو پیش کرتی ہے جہاں محبوب کو ایک "مشکل پسند بت" یا "قاتل" کے طور پر دکھایا گیا ہے، جسے عاشق کی مشکلات اور حتمی قربانی میں سرور آتا ہے۔ اشعار محبوب کی بے اعتنائی اور عاشق کے دکھوں میں اس کی مسرت کو بیان کرتے ہیں، جو عقیدت مند عاشق کی طرف سے ابدی مایوسی میں ایک متضاد قبولیت یا حتیٰ کہ آسانی کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہ بے رحمی کے مقابلے میں عقیدت کی ایک پر اثر چھان بین ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
1
शुमार-ए-सुब्हा मर्ग़ूब-ए-बुत-ए-मुश्किल-पसंद आया
तमाशा-ए-ब-यक-कफ़ बुर्दन-ए-सद-दिल-पसंद आया
شمار سبحہ مرغوب بت مشکل پسند آیا
تماشائے بہ یک کف بردن صد دل پسند آیا
میرے مشکل پسند بت (محبوب) کو تسبیح کے دانوں کا گننا پسند آیا۔ اسے ایک ہتھیلی میں سو دلوں کو اٹھانے کا تماشا بھی بھایا۔
2
ब-फैज़-ए-बे-दिली नौमीदी-ए-जावेद आसाँ है
कुशायिश को हमारा उक़्दा-ए-मुश्किल-पसंद आया
بہ فیض بے دلی نومیدیٔ جاوید آساں ہے
کشایش کو ہمارا عقدۂ مشکل پسند آیا
بے دلی کے فیض سے دائمی مایوسی آسان ہو جاتی ہے۔ ہماری مشکل پسند گرہ کو حل پسند آیا۔
3
हवा-ए-सैर-ए-गुल आईना-ए-बे-मेहरी-ए-क़ातिल
कि अंदाज़-ए-ब-खूं-ग़ल्तीदन-ए-बिस्मिल-पसंद आया
ہوائے سیر گل آئینۂ بے مہریٔ قاتل
کہ انداز بہ خوں غلتیدن بسمل پسند آیا
باغ کی سیر کی خواہش قاتل کی بے رحمی کا آئینہ بن گئی، کیونکہ اسے زخمی کا خون میں لت پت تڑپنا پسند آیا۔
4
रवानी-हा-ए-मौज-ए-ख़ून-ए-बिस्मिल से टपकता है
कि लुत्फ़-ए-बे-तहाशा-रफ़्तन-ए-क़ातिल-पसंद आया
روانی ہائے موج خون بسمل سے ٹپکتا ہے
کہ لطف بے تحاشا رفتن قاتل پسند آیا
بِسمل کے خون کی بہتی لہروں سے یہ ٹپکتا ہے، کیونکہ قاتل کے بے تحاشا اور بے روک ٹوک چلے جانے کا لطف اسے پسند آیا۔
5
'असद' हर जा सुख़न ने तरह-ए-बाग़-ए-ताज़ा डाली है
मुझे रंग-ए-बहार-ईजादि-ए-बे-दिल-पसंद आया
اسدؔ ہر جا سخن نے طرح باغ تازہ ڈالی ہے
مجھے رنگ بہار ایجادی بیدل پسند آیا
اسد، میری شاعری نے ہر جگہ ایک نئے باغ کی بنیاد ڈالی ہے۔ مجھے بہار پیدا کرنے والا وہ 'بے دل' انداز پسند آیا۔
6
सवाद चश्म-ए-बिस्मिल इंतिख़ाब-ए-नुक़्ता आराई
ख़िराम-ए-नाज़ बेपरवाई-ए-क़ातिल पसंद आया
سواد چشم بسمل انتخاب نقطہ آرائی
خرام ناز بے پروائی قاتل پسند آیا
بِسمِل (قربان کیے گئے) کی آنکھ کا سَواد، جیسے کسی منتخب نقطے کی آرائش ہو، اور قاتل کی نازک چال اور اس کی بے پروائی مجھے پسند آئی۔
7
हुई जिस को बहार-ए-फ़ुर्सत-ए-हस्ती से आगाही
ब-रंग-ए-लाला जाम-ए-बादा बर-महल पसंद आया
ہوئی جس کو بہار فرصت ہستی سے آگاہی
برنگ لالہ جام بادہ بر محل پسند آیا
جسے زندگی کے موقع کی فانی بہار کا علم ہوا، اُسے لالا رنگ کا شراب کا جام بروقت پسند آیا۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
