غزل
سادگی پر اس کی مر جانے کی حسرت دل میں ہے
سادگی پر اس کی مر جانے کی حسرت دل میں ہے
یہ غزل محبوب کی سادگی اور اس کی گفتگو کے گہرے اثرات کو بیان کرتی ہے، جس سے عاشق اس کے لیے مکمل ایثار و قربانی کی تمنا رکھتا ہے۔ شاعر اپنی ناکام کوششوں اور محبوب کی محفل میں اپنے ذکر سے بھی خوشی اور اہمیت محسوس کرتا ہے، جو ایک گہری اور بعض اوقات تلخ لیکن شیریں عقیدت کی عکاسی کرتا ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
1
सादगी पर उस की मर जाने की हसरत दिल में है
बस नहीं चलता कि फिर ख़ंजर कफ़-ए-क़ातिल में है
سادگی پر اس کی مر جانے کی حسرت دل میں ہے
بس نہیں چلتا کہ پھر خنجر کف قاتل میں ہے
میرے دل میں اس کی سادگی پر مر جانے کی حسرت ہے، مگر میرا بس نہیں چلتا کہ پھر خنجر قاتل کے ہاتھ میں ہے۔
2
देखना तक़रीर की लज़्ज़त कि जो उस ने कहा
मैं ने ये जाना कि गोया ये भी मेरे दिल में है
دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا
میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے
اُن کی تقریر کی لذّت دیکھیے؛ انہوں نے جو کچھ بھی کہا، مجھے ایسا محسوس ہوا گویا وہ بات میرے ہی دل میں پہلے سے موجود تھی۔
3
गरचे है किस किस बुराई से वले बाईं-हमा
ज़िक्र मेरा मुझ से बेहतर है कि उस महफ़िल में है
گرچہ ہے کس کس برائی سے ولے باایں ہمہ
ذکر میرا مجھ سے بہتر ہے کہ اس محفل میں ہے
اگرچہ مجھ میں بہت سی برائیاں ہیں، پھر بھی میرا ذکر مجھ سے بہتر ہے، کیونکہ وہ اس محفل میں موجود ہے۔
4
बस हुजूम-ए-ना-उमीदी ख़ाक में मिल जाएगी
ये जो इक लज़्ज़त हमारी सई-ए-बे-हासिल में है
بس ہجوم ناامیدی خاک میں مل جائے گی
یہ جو اک لذت ہماری سعیٔ بے حاصل میں ہے
ناامیدی کا ہجوم بس خاک میں مل جائے گا، یہ جو ایک لذت ہماری بے حاصل کوشش میں ہے۔
5
रंज-ए-रह क्यूँ खींचिए वामांदगी को इश्क़ है
उठ नहीं सकता हमारा जो क़दम मंज़िल में है
رنج رہ کیوں کھینچیے واماندگی کو عشق ہے
اٹھ نہیں سکتا ہمارا جو قدم منزل میں ہے
سفر کی تکلیف کیوں برداشت کی جائے، جب تھکن سے ہی عشق ہے؟ ہمارا وہ قدم جو منزل پر ہے، اب اٹھ نہیں سکتا۔
6
जल्वा ज़ार-ए-आतिश-ए-दोज़ख़ हमारा दिल सही
फ़ित्ना-ए-शोर-ए-क़यामत किस के आब-ओ-गिल में है
جلوہ زار آتش دوزخ ہمارا دل سہی
فتنۂ شور قیامت کس کے آب و گل میں ہے
ہمارا دل بے شک دوزخ کی آگ کا جلوہ گاہ ہو، مگر قیامت کے شور کا فتنہ کس کے آب و گل میں موجود ہے؟
7
है दिल-ए-शोरीदा-ए-'ग़ालिब' तिलिस्म-ए-पेच-ओ-ताब
रहम कर अपनी तमन्ना पर कि किस मुश्किल में है
ہے دل شوریدۂ غالبؔ طلسم پیچ و تاب
رحم کر اپنی تمنا پر کہ کس مشکل میں ہے
غالب کا بے چین دل پیچیدہ مشکلات کا ایک طلسم ہے۔ اپنی تمنا پر رحم کر، کیونکہ وہ بڑی مشکل میں ہے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
