غزل

رہے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو

رہے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو
مرزا غالب· Ghazal· 3 shers· radif: हो

یہ غزل دنیا سے مکمل تنہائی اور بے تعلقی کی گہری آرزو کا اظہار کرتی ہے۔ شاعر ایسی جگہ جانے کی تمنا کرتا ہے جہاں کوئی انسان نہ ہو، نہ کوئی ہم سخن ہو اور نہ کوئی ہم زباں۔ یہ سماجی رشتوں اور توقعات سے آزاد، ایک پرامن وجود کی شدید خواہش کو ظاہر کرتا ہے، جس کا تصور بے در و دیوار کے ایک لا محدود گھر کے طور پر کیا گیا ہے۔

Source: rekhta · HI

ویڈیو · بالی وڈ
ویڈیو دیکھیں →
نغمہ سنیں
رسم الخط
1
रहिए अब ऐसी जगह चल कर जहाँ कोई न हो हम-सुख़न कोई न हो और हम-ज़बाँ कोई न हो
رہیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو ہم سخن کوئی نہ ہو اور ہمزباں کوئی نہ ہو
اب ہمیں ایسی جگہ جا کر رہنا چاہیے جہاں کوئی نہ ہو۔ جہاں بات کرنے والا کوئی نہ ہو اور ہماری زبان بولنے والا بھی کوئی نہ ہو۔
2
बे-दर-ओ-दीवार सा इक घर बनाया चाहिए कोई हम-साया न हो और पासबाँ कोई न हो
بے در و دیوار سا اک گھر بنایا چاہیے کوئی ہمسایہ نہ ہو اور پاسباں کوئی نہ ہو
ایک ایسا گھر بنانا چاہیے جس کی نہ کوئی دیوار ہو اور نہ کوئی دروازہ۔ جہاں کوئی پڑوسی نہ ہو اور نہ ہی کوئی نگہبان ہو۔
3
पड़िए गर बीमार तो कोई न हो तीमारदार और अगर मर जाइए तो नौहा-ख़्वाँ कोई न हो
پڑیے گر بیمار تو کوئی نہ ہو تیماردار اور اگر مر جائیے تو نوحہ خواں کوئی نہ ہو
اگر میں بیمار پڑوں تو کوئی تیماردار نہ ہو، اور اگر میں مر جاؤں تو کوئی نوحہ خواں نہ ہو۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.