غزل
پھر مجھے دیدہ تر یاد آیا
پھر مجھے دیدہ تر یاد آیا
یہ غزل محبوب سے جدائی کے شدید درد اور کرب کا اظہار کرتی ہے۔ شاعر کو اپنی نم آنکھوں اور محبوب کے کوچ سے پیدا ہونے والے قیامت خیز غم کی بار بار یاد آتی ہے، گویا ان کے جانے ہی سے قیامت برپا ہو گئی ہو۔ اس میں ہجر اور فغاں کا گہرا احساس پنہاں ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
1
फिर मुझे दीदा-ए-तर याद आया
दिल जिगर तिश्ना-ए-फ़रयाद आया
پھر مجھے دیدۂ تر یاد آیا
دل جگر تشنۂ فریاد آیا
پھر مجھے نمناک آنکھ یاد آئی۔ میرا دل اور جگر فریاد کے لیے تشنہ ہو گیا۔
2
दम लिया था न क़यामत ने हनूज़
फिर तिरा वक़्त-ए-सफ़र याद आया
دم لیا تھا نہ قیامت نے ہنوز
پھر ترا وقت سفر یاد آیا
قیامت نے ابھی سانس بھی نہیں لی تھی کہ مجھے تمہارے جانے کا وقت یاد آ گیا۔
3
सादगी-हा-ए-तमन्ना या'नी
फिर वो नैरंग-ए-नज़र याद आया
سادگی ہائے تمنا یعنی
پھر وہ نیرنگ نظر یاد آیا
میری خواہشوں کی سادگی کا ذکر کرتے ہوئے، مجھے پھر سے اس دلکش نگاہ کا جادو یاد آ گیا۔
4
उज़्र-ए-वामांदगी ऐ हसरत-ए-दिल
नाला करता था जिगर याद आया
عذر واماندگی اے حسرت دل
نالہ کرتا تھا جگر یاد آیا
اے حسرتِ دل، میری درماندگی کا عذر یہ تھا کہ میں نالہ کر رہا تھا۔ پھر مجھے میرا جگر یاد آیا۔
5
ज़िंदगी यूँ भी गुज़र ही जाती
क्यूँ तिरा राहगुज़र याद आया
زندگی یوں بھی گزر ہی جاتی
کیوں ترا راہ گزر یاد آیا
زندگی تو ویسے بھی گُزر ہی جاتی، پھر تمہارا راستہ کیوں یاد آیا؟
6
क्या ही रिज़वाँ से लड़ाई होगी
घर तिरा ख़ुल्द में गर याद आया
کیا ہی رضواں سے لڑائی ہوگی
گھر ترا خلد میں گر یاد آیا
اگر مجھے جنت میں تمہارا گھر یاد آ گیا تو رِضواں (جنت کے دربان) سے میری کیسی لڑائی ہوگی۔
7
आह वो जुरअत-ए-फ़रियाद कहाँ
दिल से तंग आ के जिगर याद आया
آہ وہ جرأت فریاد کہاں
دل سے تنگ آ کے جگر یاد آیا
آہ وہ فریاد کی جرات اب کہاں ہے؟ دل سے تنگ آ کر مجھے اپنا جگر یاد آیا۔
8
फिर तिरे कूचे को जाता है ख़याल
दिल-ए-गुम-गश्ता मगर याद आया
پھر ترے کوچہ کو جاتا ہے خیال
دل گم گشتہ مگر یاد آیا
میرا خیال پھر تیرے کوچے کی طرف جاتا ہے۔ کیا گمشدہ دل کو مگر یاد آیا؟
9
कोई वीरानी सी वीरानी है
दश्त को देख के घर याद आया
کوئی ویرانی سی ویرانی ہے
دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا
یہ ایک عجیب سی ویرانی ہے، ایسی ویرانی پہلے کبھی نہیں دیکھی۔ ریگستان کو دیکھ کر مجھے اپنا گھر یاد آ گیا۔
10
मैं ने मजनूँ पे लड़कपन में 'असद'
संग उठाया था कि सर याद आया
میں نے مجنوں پہ لڑکپن میں اسدؔ
سنگ اٹھایا تھا کہ سر یاد آیا
اے اسد، میں نے بچپن میں مجنوں پر پتھر اٹھایا تھا، مگر پھر مجھے اپنا سر یاد آ گیا۔
11
वस्ल में हिज्र का डर याद आया
ऐन जन्नत में सक़र याद आया
وصل میں ہجر کا ڈر یاد آیا
عین جنت میں سقر یاد آیا
وصل کے لمحے میں جدائی کا ڈر یاد آگیا۔ عین جنت میں بھی سقر کا خوف یاد آگیا۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
