غزل

نہیں کہ مجھ کو قیامت کا اعتقاد نہیں

نہیں کہ مجھ کو قیامت کا اعتقاد نہیں
مرزا غالب· Ghazal· 7 shers· radif: नहीं

یہ غزل جدائی کے شدید درد اور محبوب کی بے رخی کو نمایاں کرتی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اسے قیامت پر یقین ہے مگر شبِ فراق اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ محبوب کی لاتعلقی اتنی ہے کہ نہ وہ آنے پر خیرمقدم کہتے ہیں اور نہ رخصت ہونے پر خیرباد۔ حتیٰ کہ شاعر کی یاد کو بھی محبوب اپنی بزم میں فتنہ و فساد کی عدم موجودگی سے تعبیر کرتا ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
नहीं कि मुझ को क़यामत का ए'तिक़ाद नहीं शब-ए-फ़िराक़ से रोज़-ए-जज़ा ज़ियाद नहीं
نہیں کہ مجھ کو قیامت کا اعتقاد نہیں شب فراق سے روز جزا زیاد نہیں
یہ نہیں کہ مجھے قیامت پر اعتقاد نہیں ہے، بلکہ شبِ فراق سے روزِ جزا زیادہ طویل نہیں ہے۔
2
कोई कहे कि शब-ए-मह में क्या बुराई है बला से आज अगर दिन को अब्र ओ बाद नहीं
کوئی کہے کہ شب مہ میں کیا برائی ہے بلا سے آج اگر دن کو ابر و باد نہیں
اگر کوئی پوچھے کہ چاندنی رات میں کیا برائی ہے، تو پرواہ مت کرو؛ اگر آج دن میں بادل اور ہوا نہیں ہیں تو کیا فرق پڑتا ہے۔
3
जो आऊँ सामने उन के तो मर्हबा न कहें जो जाऊँ वाँ से कहीं को तो ख़ैर-बाद नहीं
جو آؤں سامنے ان کے تو مرحبا نہ کہیں جو جاؤں واں سے کہیں کو تو خیرباد نہیں
اگر میں ان کے سامنے آؤں تو وہ مرحبا نہیں کہتے؛ اور اگر میں وہاں سے کہیں چلا جاؤں تو خیر باد نہیں کہتے۔
4
कभी जो याद भी आता हूँ मैं तो कहते हैं कि आज बज़्म में कुछ फ़ित्ना-ओ-फ़साद नहीं
کبھی جو یاد بھی آتا ہوں میں تو کہتے ہیں کہ آج بزم میں کچھ فتنہ و فساد نہیں
جب میں کبھی یاد بھی آتا ہوں تو وہ کہتے ہیں کہ آج محفل میں کوئی فتنہ و فساد نہیں ہے۔
5
अलावा ईद के मिलती है और दिन भी शराब गदा-ए-कूच-ए-मय-ख़ाना ना-मुराद नहीं
علاوہ عید کے ملتی ہے اور دن بھی شراب گدائے کوچۂ مے خانہ نا مراد نہیں
علاوہ عید کے اور دن بھی شراب ملتی ہے۔ مے خانے کی گلی کا گدا کبھی نا مراد نہیں ہوتا۔
6
जहाँ में हो ग़म-ओ-शादी बहम हमें क्या काम दिया है हम को ख़ुदा ने वो दिल कि शाद नहीं
جہاں میں ہو غم شادی بہم ہمیں کیا کام دیا ہے ہم کو خدا نے وہ دل کہ شاد نہیں
دنیا میں غم اور خوشی ایک ساتھ ہوں تو ہمیں کیا سروکار؟ خدا نے ہمیں ایسا دل دیا ہے جو کبھی خوش نہیں ہوتا۔
7
तुम उन के वा'दे का ज़िक्र उन से क्यूँ करो 'ग़ालिब' ये क्या कि तुम कहो और वो कहें कि याद नहीं
تم ان کے وعدہ کا ذکر ان سے کیوں کرو غالبؔ یہ کیا کہ تم کہو اور وہ کہیں کہ یاد نہیں
غالب، تم ان سے ان کے وعدے کا ذکر کیوں کرتے ہو؟ یہ کیا کہ تم کہو اور وہ کہیں کہ انہیں یاد نہیں۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.