Sukhan AI
غزل

مستی ب ذوقِ غفلتِ ساقی ہلاک ہے

مستی ب ذوقِ غفلتِ ساقی ہلاک ہے
مرزا غالب· Ghazal· 3 shers· radif: है

یہ غزل جنون اور نامکمل خواہش کے تضادات کو بیان کرتی ہے۔ یہ اس بات پر افسوس کرتی ہے کہ ساقی کی غفلت سے مستی کس طرح برباد ہو جاتی ہے، اور دل محبوب کے ناز کی تلوار سے ملے زخم کے سوا کسی اور چیز کی آرزو نہیں کرتا۔ عشق کے جنون کی شدت حقیقت کو اس قدر بدل دیتی ہے کہ وسیع صحرا بھی آنکھوں میں مٹھی بھر خاک کے برابر دکھائی دیتا ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
मस्ती ब-ज़ौक़-ए-ग़फ़लत-ए-साक़ी हलाक है मौज-ए-शराब यक-मिज़ा-ए-ख़्वाब-नाक है
ساقی کی غفلت کی وجہ سے مستی تباہ ہو جاتی ہے۔ شراب کی لہر بس ایک نیند بھری پلک جھپکنے جیسی ہے۔
2
जुज़ ज़ख्म-ए-तेग़-ए-नाज़ नहीं दिल में आरज़ू जेब-ए-ख़याल भी तिरे हाथों से चाक है
میرے دل میں تمہاری ناز کی تلوار کے زخم کے سوا کوئی آرزو نہیں ہے۔ میرے خیال کی جیب بھی تمہارے ہاتھوں سے پھٹی ہوئی ہے۔
3
जोश-ए-जुनूँ से कुछ नज़र आता नहीं 'असद' सहरा हमारी आँख में यक-मुश्त-ए-ख़ाक है
اے اسد، جنون کے جوش میں کچھ نظر نہیں آتا۔ ہماری آنکھوں میں صحرا بھی بس مٹھی بھر خاک کی مانند ہے۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.