नश्व-ओ-नुमा है अस्ल से 'ग़ालिब' फ़ुरूअ' को
ख़ामोशी ही से निकले है जो बात चाहिए
“O Ghalib, the branches derive their growth from the root; The desired word emerges from silence, and bears its fruit.”
— مرزا غالب
معنی
اے غالب، شاخوں کو ان کی نشو و نما جڑ سے حاصل ہوتی ہے۔ جو بات درکار ہے وہ خاموشی ہی سے نکلتی ہے۔
تشریح
یہ شاعری گہری جذبات اور فلسفے کی تلاش کرتا ہے۔ غالب نے محبت، طلب اور روحانی تلاش کے موضوعوں کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
