غزل
مَنظُور تھی یہ شَکل تَجَلّی کو نُور کی
مَنظُور تھی یہ شَکل تَجَلّی کو نُور کی
یہ غزل محبوب کی الہامی خوبصورتی کی تعریف کرتی ہے، اس کے روپ کو نور کا آخری مظہر قرار دیتی ہے۔ یہ محبت کی گہری قربانی پر روشنی ڈالتی ہے، جہاں شہداء بھی موت میں عزت پاتے ہیں، اور سطحی پرہیزگاری پر ہلکی سی تنقید کرتی ہے۔ اس کے اشعار عاشق کی لازوال اور غیر متزلزل عقیدت کو بیان کرتے ہیں، جو دنیاوی حدود سے ماورا ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
मंज़ूर थी ये शक्ल तजल्ली को नूर की
क़िस्मत खुली तिरे क़द-ओ-रुख़ से ज़ुहूर की
نور کی تجلی کو یہ شکل منظور تھی۔ اس کے ظہور کی قسمت تیرے قد و رخ سے کھلی۔
2
इक ख़ूँ-चकाँ कफ़न में करोड़ों बनाओ हैं
पड़ती है आँख तेरे शहीदों पे हूर की
ایک خون چکان کفن میں کروڑوں بناو ہیں۔ حور کی آنکھ تیرے شہیدوں پر پڑتی ہے۔
3
वाइ'ज़ न तुम पियो न किसी को पिला सको
क्या बात है तुम्हारी शराब-ए-तहूर की
اے واعظ، نہ تم خود پیتے ہو اور نہ کسی کو پلا سکتے ہو۔ تمہاری شرابِ طہور میں کیا خاص بات ہے؟
4
लड़ता है मुझ से हश्र में क़ातिल कि क्यूँ उठा
गोया अभी सुनी नहीं आवाज़ सूर की
قاتل قیامت کے دن مجھ سے لڑتا ہے کہ میں کیوں اٹھا، گویا اس نے ابھی صور کی آواز نہیں سنی ہے۔
5
आमद बहार की है जो बुलबुल है नग़्मा-संज
उड़ती सी इक ख़बर है ज़बानी तुयूर की
بلبل اس لیے نغمہ سرا ہے کہ بہار کی آمد ہوئی ہے۔ یہ پرندوں کی زبانی ایک اڑتی ہوئی خبر جیسی ہے۔
6
गो वाँ नहीं प वाँ के निकाले हुए तो हैं
का'बे से इन बुतों को भी निस्बत है दूर की
گو وہ وہاں نہیں، مگر وہ وہاں سے نکالے ہوئے تو ہیں۔ ان بتوں کا بھی کعبے سے دور کا تعلق ہے۔
7
क्या फ़र्ज़ है कि सब को मिले एक सा जवाब
आओ न हम भी सैर करें कोह-ए-तूर की
کیا فرض ہے کہ سب کو ایک ہی سا جواب ملے؟ آؤ، ہم بھی کوہِ طور کی سیر کریں اور اپنا منفرد تجربہ حاصل کریں۔
8
गर्मी सही कलाम में लेकिन न इस क़दर
की जिस से बात उस ने शिकायत ज़रूर की
اس کے الفاظ میں گرمی تو تھی، لیکن اتنی نہیں کہ جس سے اس نے بات کی، اس نے ضرور شکایت کی۔
9
'ग़ालिब' गर इस सफ़र में मुझे साथ ले चलें
हज का सवाब नज़्र करूँगा हुज़ूर की
اگر غالب مجھے اس سفر میں اپنے ساتھ لے چلیں، تو میں حج کا ثواب آپ کی خدمت میں نذر کر دوں گا۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
